ابنا: اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے آج ایران کے کھیل اور جوانوں کے مجوزہ وزیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران فہم و فراست اور تدبیر و منطق کے ساتھ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات ميں شامل ہوا ہے۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر نے تہران کے مذاکراتی فریقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی طور پر دھمکی ، تحقیر اور امتیازي سلوک کا جواب نہیں دے گا کیوں کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نےکسی بھی طاقت کے سامنے نہ ہی سر جھکایا ہے اور نہ جھکائے گا۔صدر مملکت نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران ديگرملکوں کی مانند کبھی کبھی بین الاقوامی میدان میں امتیازی سلوک تسلیم نہیں کریگا کہا کہ دوسروں کو بھی اس بات پر اعتماد کرنا چاہیئے کہ ایران ایٹمی ٹکنالوجی سے استفادہ اپنی پیشرفت کے لئے چاہتا ہے دوسروں کےلئے خطرہ بننے کے لئے نہیں ۔ جناب روحانی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران بین الاقوامی مسائل کے حل کا اصلی راستہ سیاسی مذاکرات کو قرار دیتا ہے۔ جناب روحانی نے گروپ پانچ جمع ایک کےساتھ مذاکرات میں ایران کے مجوزہ تین مرحلے پیش کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ساتھ ایران کے امن پسندانہ موقف سے جنگ پسندوں میں پیدا ہونے والا خوف و ہراس اس بات کا باعث بنا کہ بڑی طاقتیں ایران کے منصوبے کے مقابلے میں صرف اس کی مجموعی باتوں کو تسلیم کریں۔
.......
/169